حمل کے دوران ہونے والی چھالوں والی جلدی بیماری میں مبتلا ماں اور اس کی بیٹی کا جذباتی منظر


میرے کلینک کی مریضہ اور اس کی بچے سے الرجی کا راز

تحریر: ایم مزمل شامی – 22 جون 2025


کہانی کا آغاز

ہسپتال کی خنک اور بے جان راہداری میں اینٹی سیپٹک کی خوشبو ابھی بھی محسوس ہو رہی تھی، جب نرس مولی اپنے سکرابز درست کر رہی تھی۔ آج کا دن بھی عام دنوں کی طرح لگ رہا تھا، مگر کمرہ نمبر 211 میں کچھ غیر معمولی تھا۔ کیٹ وائیسر کمزور اور بے ہوش بیڈ پر پڑی تھی، اور اس کی ننھی بیٹی جیسیکا اپنے والد کے ہاتھوں میں تھی۔

"جیسیکا، ممی کو ہیلو کہو،" اُس نے نرم لہجے میں کہا اور بیڈ کے قریب آیا۔

کیٹ کی آنکھیں اچانک خوف سے پھٹی رہ گئیں اور اُس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔

"کوڈ بلیو! فوراً مدد کرو!" نرس مولی نے آواز لگائی۔

ڈاکٹر گبسن فوراً پہنچ گئے، ان کی چہرے پر تشویش واضح تھی۔
"یہ الرجک ری ایکشن ہے، لیکن کس چیز سے؟" وہ غور کرتے ہوئے بولے۔

ٹیسٹ کیے گئے، لیکن کوئی عام الرجن نہیں ملا۔ جب بھی جیسیکا کمرے میں آتی، کیٹ کی حالت بگڑ جاتی۔ پورا میڈیکل عملہ الجھن میں تھا۔

مولی نے شب و روز تحقیق شروع کی۔ طبی جرنلز اور کیس اسٹڈیز میں ایک نایاب بیماری کا پتہ چلا:
حمل کے دوران ہونے والی چھالوں والی جلدی بیماری — ایک خود کار مدافعتی مرض جہاں ماں کا جسم اپنی جلد پر حملہ کرتا ہے، جو حمل کے دوران بچے کی جینیاتی شناخت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

مولی نے یہ بات ڈاکٹر گبسن سے شئیر کی،
"میرے خیال میں کیٹ کو حمل کے دوران ہونے والی چھالوں والی جلدی بیماری ہے، یہ نایاب ہے مگر علامات سے میل کھاتا ہے۔"

ڈاکٹر نے فوراً علاج کا حکم دیا۔ کیٹ کو کورٹیکوسٹیرائڈز اور امیونوسپریسنٹس دیے گئے۔ چند ہفتوں میں حالت میں بہتری آئی، مگر جذباتی دباؤ اب بھی قائم تھا۔

کیٹ روتی ہوئی بولی،
"میری اپنی بیٹی سے الرجی؟ میں اسے گلے تک نہیں لگا سکتی۔"

مولی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا،
"صبر کرو، علاج سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ عارضی ہے۔"

آخرکار، جب کیٹ نے بغیر خوف کے اپنی جیسیکا کو گلے لگایا تو آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔
"امی یہاں ہے، میری جان۔"


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: حمل کے دوران ہونے والی چھالوں والی جلدی بیماری کیا ہے؟
جواب: یہ ایک نایاب خود کار مدافعتی مرض ہے جو حمل کے دوران جلد پر خارش اور پھوڑے پیدا کرتا ہے۔

سوال: اس کا علاج کیسے ہوتا ہے؟
جواب: کورٹیکوسٹیرائڈز اور امیونوسپریسنٹس کے ذریعے مدافعتی نظام کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ علامات کم ہوں۔

سوال: کیا ماں مکمل صحتیاب ہو سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، مناسب علاج سے مکمل صحتیابی ممکن ہے، لیکن حمل کے دوران نگرانی ضروری ہے۔

سوال: کیا یہ بیماری دوبارہ ہو سکتی ہے؟
جواب: ہاں، آئندہ حملوں میں یہ بیماری دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے، اس لیے پیشگی احتیاط ضروری ہے۔


کیا آپ یا آپ کے کسی عزیز نے بھی حمل کے دوران نایاب بیماری کا سامنا کیا ہے؟ اپنی کہانی نیچے تبصروں میں شیئر کریں تاکہ دوسروں کو آگاہی اور حوصلہ ملے۔